روز و شب کے ہنگاموں سے پرے کوئی بیٹھا ہے!
آہ صاحب ، اب تک آپ اتنا تو سمجھ گئے کہ جو بیٹھا ہے وہ ب سے ہی بیٹھا ہے !
اور جو لیٹا ہے؟ ایک شخص نے سوال کیا۔
آپ مسکرائے، فرمایا لکھو جو لیٹا ہے ،وہ لام سے ہی لیٹا ہے !
سب نے کہا بے شک!
اتنے میں میؔر نے قافیہ کہا؛
```
؎ یعنی رات بہت تھے جاگے
صبح ہوئی آرام کیا
```
آرام کیا تھا صاحب؟
ہم تو اُس نفسِ عتیق کو پہچانتے ہیں ، جو روز و شب کے ہنگاموں سے دور پرے ب سے بیٹھا ہے ، یعنی گھات لگائے ہے !
کوئی بچ کر آخر کہاں جائے ہے ؟
عمر بھر نقل مکانی کرتے رہے !
اب نقل زمانی بھی ہو رہی ہے !
آتے جاتے اندیشوں سے ، چلتے رُکتے دَر ویشوں میں ، زمانے بدل رہے تھے ، زمانے بدل چکے تھے !
آپ سمجھ گئے کہ نقل و بدل ہے تو نقل و حمل بھی ہوگا، اور جب عملِ حمل ہے تو نعم البدل بھی ہوگا!
ایک آواز آئی : جو بھی ہو ”لام“ سے ہی ہو!
```
”لا“ کی دو دھاری تلوار ہے !
```
ابھی لفظِ لام ہی کو دیکھ لیجیے ، کیسے میم کی مٹھی میں “لا” کی دو دھاری تلوار ہے !
ہے تو ہے ، ہندسوں کی طرح حروف بھی تاریخ میں اُمڈ رہے ہیں
، نت نئے لینگوئج سسٹمز متعارف کروائے جا رہے ہیں !
