قلمکار
عبدالباسط ظفر ایک فلسفی اور ماہر الٰہیات ہیں جن کی زندگی مختلف تہذیبوں، زبانوں اور فکری روایات کے درمیان ایک معنوی ربط اور تسلسل کا کردار ادا کرتی ہے۔ لاہور میں پیدائش اور ملکِ ترکیہ میں طویل مدت قیام کے بعد وہ اب جرمنی میں مقیم بطورِ محقق اور نقاد مقیم ہیں۔ اگرچہ ان کی تدریسی مہارت اسلامی علوم اور تقابلی کلامی روایت میں راسخ ہے ، اس کے باوجود ان کا فکری اُفق زندگی اور آخرت کے وسیع مکالمے کا احاطہ کرتا نظر آتا ہے ،دُکتور باسط نے بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کے موضوعات پر متعدد لیکچرز اور ورکشاپس میں شرکت کی جبکہ کئی زبانوں پر عبور کے باوجود وہ اردو زبان کو ہی اپنے تخلیقی اظہار کا بہترین اظہار سمجھتے ہیں ۔ اُن کی اردو کتب اور مضامین شائع ہو چکے ہیں اور وہ مختلف فکری و ادبی حلقوں میں اپنی شناخت قائم کر چکے ہیں۔
ان کا روحانی سفر پنجاب بھر کے صوفی مزارات سے شروع ہوا ، جہاں سے جنوبی ایشیائی روایت نے ان کے باطن میں گہری اثر پذیری پیدا کی۔ دُکتور صاحب اعتراف کرتے ہیں کہ صلح رحمی اورسراسر شفقت کا مزاج ، عمر بھر کی تربیت اور پابندی کا تقاضا کرتا ہے اور اسی باطنی سفر میں انہیں ملامتی قلندری روایت نے بے حد متاثر کیا اور انہیں غیر معمولی تجربات بھی ہوئے۔ کم عمری سے وہ مجالس اور حلقہ ذکر کا حصہ رہے اور طویل مطالعے، ریاضت اور اسفار کے بعد، اُن کے روحانی شیوخ نے انہیں "فقیر" کے لقب سے نوازا۔ آج وہ اِسی راہ پر قائم ہیں اور شفقت اور انسانی ہمدردی کو اپنی فکری اور عملی زندگی کا بنیادی محور سمجھتے ہیں۔
