فرمایا ”چالیس“ اہم ہے، اِسی لیے اِس پر جھگڑا کیا جا رہا ہے!
کون آئے گا چالیس پر! کون جیے گا چالیس تک؟
جس نفسِ عتیق کو چرخِ فلک کا سائباں مل جائے، وہ اور کیا تلاشے؟
وہ چالیس تلاشے صاحب!
آپ نے فرمایا اور ہمیں بارہ برس کی عمر سے ہی چالیس کا ورد کروانا شروع کر دیا!
اب چالیس کی کرسی پر بیٹھیں گے تو چوالیس اور چھیالیس تک ، لَیس ہو کر پہنچیں گے! آپ ہمیں جتنی گنتی سِکھائے، ہم اُلٹا ہی پڑھ پائے !
کہ اُلٹا پڑھنے سے چالیس ، بیس کی عمر تک آ ہی جاتا ہے!
خلقت میں جس جس نے پوچھا، جب جب عمر کا پوچھا! ہم کبھی پچیس کہے ، کبھی پینتیس! لیکن وہ پچیس، وہ پینتیس، چالیس ہی تھا صاحب! ہر تینتیس ، چالیس ہی تھا!
علی باؔبا کے چور بھی چالیس تھے!
ایک ایک کے ساتھ ہم وقت بِتائے صاحب!
ہر سال میں کوئی نیا چور داخل ہوتا ہے اور ہم ہیں کہ بھانپ لیتے ہیں ! جی صاحب اب کہ طفلِ نوخیز ہیں اور بھاپ لیتے ہیں! طبیب کہے کہ اِن کی سانسیں کیوں اُکھڑتی ہیں ، اِن کی پیشانی پہ کوئی کالا ٹِکا لگائیے !
جی صاحب، وہ ٹِکا بھی چالیس کا تھا! اعداد و شمار کے نِت نئے طریقے آدمی نے بنائے ہیں ! آپ کا آنگن ہے ، کیا ہے کہ پیمایش درکار ہے، ہر جن و بشر ، کونین کو ناپ رہا ہے ، تول رہا ہے ! جی صاحب، اور وہ پیمانہ بھی چالیس کا تھا! پورے چالیس پیمانے تھے ! ہم نے برابر دیکھے تھے، جھم جھم جھمکتے چالیس پیمانے! آپ نے پوچھا، ”پیمانے“ تھے؟
ہم کہے نہیں صاحب!
آستانے تھے! جی، جی، آستانے تھے، ستانے آ گئے تھے! ہم آ گئے ستّانے ! جی سُستانے!
زبانوں کے تحکم میں اردو ایک باندی کی سی صورت میں نظر آئی ! آپ کہے باندی کیوں؟ ہم کہے باندھی کیوں؟ جب باندھ رکھیں گے تو باندی ہی بنے گی ناں! اردو کو معاشیات، سماج اور مال اسباب نے باندھ رکھا تھا۔ ہر طفلِ اردو، بھاگ رہا تھا صاحب! یہاں سے وہاں دیگر زبانوں میں اُلجھا ہوا تو ملا، نقطہ داں نہ ملا! عارف ملا ، عابد ملا، اصغر ملا ، اکبر ملا، مگر کیا ہے کہ نقطہ داں نہ ملا! تھا ہی نہیں! آپ کہے ہوا کیا؟ ہم نے عرض کی ، کہ بندھے بھی ہیں اور باندے بھی، اردو سے بندھے ہیں ، وہ راکھی ڈوری بھی چالیس کی تھی صاحب!
جی چالیس کا قرض تھا!
ادا ہوجائے!
کوئی عشق وفا ہو جائے !
ذرا ایک ادا ہو جائے!
ہو جائے! ہو جائے!
۔۔۔۔۔۔۔۔
نشست چالیس ، چل رہی ہے صاحب! جی کتنے میں دو گے؟ ایک آواز آئی۔
اب آپ ہی بتائیے کتنے میں دیتے ؟
دے سکتے ہی کیسے تھے؟ کہ نشست ایک ہی تھی ، اور تھی بھی چالیس نمبر ! ہم پلٹ کر کہے ، ”بک ہے “ صاحب! وہ سمجھے ، بُک ہے صاحب؟ جی صاحب بُک ہی ہے!!! کتاب کو بُک کہہ رہا تھا صاحب! بک بک کرتا، بک بکا، باندا!
ہائے کہ آپ کا باندھا! کیسے کھلتا صاحب! جس کی ایک ایک گانٹھ آپ خود لگائے اُس وجود کا عقدہ کوئی کیسے کھولے؟
کھلتا ہی نہیں تھا صاحب، آپ کا باندھا! چالیس کا باندھا!
ہندسوں کے بازار میں ، چالیس کا ایک ، چالیس کا ایک ! آوازیں لگ رہی تھیں! ہر کوئی ہندسوں اور لفظوں کو آوازوں میں تول رہا تھا! جی بول رہا تھا ، لیکن کیا ہے کہ صاحب! آواز تھی ہی نہیں ! آپ سمجھ گئے کہ وہ خاموشی بھی چالیس کی ہی تھی! ہر سوار یہی دعا کر رہا تھا، کہ پروردگار ہر ایک کو، چالیس کا ایک عطا فرمائے ! ہم جھٹ کہے کہ ”عطا“ فرمائے تو ”وفا” کا سامنا ناگزیر ہے !
جی چالیس کی سیٹ خراب ہے ، اُس پر کئی نام لکھے ہیں !
آپ ہما را بھی لکھ دیجیے !
ہمیں ”چالیس“ کر دیجیے !
