آج آپ فقر کی مد میں ایک اور باب باندھے اور فرمانے لگے کہ درد و الم میں ، مصائب و تکالیف میں، فقط حروف کا میم جَھول نہیں، اجسام کو لاحق نابودی بھی ہے۔ پھر اتنا ہی نہیں ، بود نابود ، یعنی ہونا نہ ہونا۔۔
اور کیا ہونا! یا پھر کہیے کیا سے کیا ہوتے چلے جانا، اور ہو سکنا کے دیگر مراحل بھی،
آہ صاحب! آپ طے کیا گئے،
اور حرف ط کے ساتھ کتاب میں”طوطا“ لکھا تھا…
جی صاحب: ط سے طوطا
ط طوطا
طٰ کے حروف کو کوئی ” ت“ پڑھ رہا تھا اور کوئی ”طوئیں۔۔
سارے طوطے مل کر روئیں۔۔۔
آہ صاحب
خوابیدہ نگاہوں سے گزرتا کوئی منظر ۔۔۔
آپ جان گئے
کوئی منظر
۔۔۔
آپ جان گئے!؟
جی صاحب، درد کو اولادِ آدمی، اگر سمجھے تو دودھ کے دانتوں کے ٹوٹنے سے سمجھ سکتی ہے۔ ہم جان گئے کہ دانت کا درد، سر اور پیر کے یا دیگر چوٹوں سے منفرد ہے۔ چنانچہ کہا کیے کہ کسی کے سر میں پیٹ درد ہو جائے تو وہ کیا کرے؟
من نیم!
سِّر سِّر جانم ، تن نیم
یہی کہے ہم چپکے سے مجذوبِ مغرب کو ، اور کہے
بس صاحب اب کہ مسافتیں ہیں اور یہ سمجھے ہیں کہ نورِ پاکِ آمدم، کورِ چشماں را ولے روشن نیم
وہ اسم اور مسمیٰ وہ اصحاب قدیم
ہم تعاقب میں رہے ، اور خود کو کافکا کی راہداریوں میں پاتے ہیں ، آپ نے پراگ میں عزیز فانسس کے نام کو چوما کیا،
پھر خواجہ بختیارِ کاکی پر مضمون باندھے،
حیران و ویراں سراسر احساں
با یزید نے اپنی والدہ کو پانی دیا خدا کی قسم ۔ اُسی نے بھی تشنگی مٹائی
دل پریشاں دیدہ حیراں کردہ ای
فرمائے کہ آپ کا میلانِ طبع ہی اآپ کی تقدیر ہے!
ہم سمجھ گئے کہ جانِ من ای کردہ ای ہاں کردہ ای!
دیدہ گریاں سینہ بریاں کردہ ای
دل پریشاں دیدہ حیراں کردہ ای
. ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب؟
فرمائے جب دنیا بالشت برابر ہوجائے، اور سمٹ کر ڈھائی قدم ہو جائے تو غالب کا فرمایا درست معلوم ہوتا ہے، تمنا کا دوسرا قدم ؟
کہاں تھا؟ آپ پوچھا کیے۔
آہ صاحب، یہاں تھا، یہیں تھا اور بھلا کہاں تھا!!
آپ یہاں ، وہاں اور کہاں میں ٹھیک اترے اور بتلائے کہ رسالۂ قشیریہ میں جنابِ ذوالنون کی حکایات درج ہیں، ہم پڑھا کیے اور نیل کے ساحل پہ آپ کے نام سے دو زانو ہوئے۔۔ ذوالنون نہ ہوئے ۔۔
فرمائے ایک مرتبہ کوئی سائل آیا اور پوچھا عارف کیا ہوتا ہے؟
جناب ذوالنون فرمائے ابھی یہاں تھا۔۔ تو اب کہاں ہے؟ کہاں تھا صاحب، وہ الف اور ب کے سنگ، وہ ابدی لمحہ جو “اب” بن جائے، ابھی بن جائے!!
وہ عارف کا بھلکڑ کیا جانتا تھا کہ عارف کہاں ہوگا؟ ذوالنون کہئے ابھی یہاں تھا اور “اب” کہاں ہوگا!
عارف وہاں تھا، اٗس سائل کور کو نظر نہ آیا!
وہ تمنا کا دوسرا قدم رکھنے والا، وہ پریم کے ڈھائی اکھڑ لیے جو چل رہا تھا جانتا تھا کہ وہ نصف قدم،
وہ نیم وا ہونا، وہ الف ہونا۔۔۔
وہ یہاں وہاں اور کہاں کی مکانی ترتیب کو حجاب کہے! اور سمجھائے کہ عارف ہونا، نام کا ہونا ہرگز نہیں ہے!
عارف کا عرفان
اور کوثر کالونی کے عرفان میں صوتی جھول ہے!
بات کی بھول! اور صبح کا بھولا!
پھر ایک توقف لیا، اور فرمائے جو تحریر کے مابین خلا کو پڑھنے لگےوہ عالم ہے، جو روشنی کو سائے سے سِوا نہ جانے وہ عارف ہے، اور عاشق؟ ہم التجا کیے!
آپ پریم پچکارے اور ۔۔
چمکاتے چمکارتے ہی رہے!
۔۔۔۔
علیم الحق حقی صاحب سے عشق کا عین شین اور قاف قافیہ پڑھ چکے تھے ،جسے وہ عشق کے ہجے کہتے ہم اُسے صرف عین سے عشق کہتے ہیں۔ یعنی اگر حرف عشق ع سے ہے تو ش شوق اور ق قربت بھی، جی صاحب! کہیے ! ڈریے مت!
جی صاحب!
عین سے ہی تھیں!
عین سے ہی ہیں!