رُخ ب نما!
آج فرمائے کہ شیخ جمال الدین احمد ہانسوی علہ رحمہ سرکار بابا فری د کے منظورِ نظر تھے یہاں تک کہ بابا فرید نے آپ کی روحانی تربیت میں اتنی توجہ فرمائی کہ خود بارہ برس تک ہانسی میں قیام فرمایا، اور آپ کے حق میں فرمایا کرتے تھے کہ "شیخ جمال ، جمالِ مااست" ۔ روایت ہے کہ آپ کا ایک فرزند حالتِ جذب میں رہتا اور دیوانگی غالب رہتی۔ ایک مرتبہ فرزند عالم ہوش میں آیا تو فرمائے اَلعِلم حِجَابُ اللّٰہُ الاَکبَر (علم اللہ کابہت بڑاحجاب ہے)، اس کلام کی وضاحت میں خواجہِ خواجگان نظام الدین اولیا فرماتے ہیں کہ "میں سمجھ گیاکہ یہ حقیقی مجذوب ہیں”۔ فرمایا شیخ جمال علیہ رحمہ نے بابا صاحب سے فیض پانے پر فقروفاقہ کوتاج وتخت پر فوقیت دی، اور علم ترک وتجرید آپ کاشعارتھا، آپ کمالات ظاہری و باطنی میں بےنظیرتھے۔
فرید ایاز کی آواز میں فرمائے ؛
رخ بنما کہ اے پری صبح امید من توئی
برقع کشا کہ اے صنم جلوۂ عید من توئی
( چہرہ دکھا اے محبوب کہ تو میری صبح امید ہے۔ برقع ہٹا تو اے صنم کہ میری عید کا توہی جلوہ ہے (یعنی تیری جلوہ افروزی میری عید ہے)۔
ہر سخنے کہ می کنی جاں بحلاوت آیدم
گنج شکر بہ زیر لب فرید من توئی
(تیری ہر بات سے مجھ کو حلاوت جاں حاصل ہوتی ہے، گنج شکر (شکر کا خزانہ) تیرے زیر لب ہے۔ میرا پیر فرید توہی ہے۔
فرمائے کہ ب کا رُخ ، سیدی جمالِ الدین ہانسوی پر آشکار ہوئا ہے، پھر آپ نے اُن کی غزل کا ایک قطع فرید ایاز کی آواز میں پیش کیا
سرکار! ہم پھوٹ پھوٹ روئے، اور ایسے
آفتاب از صبح تاصبح دگر قربانِ او
جاناں رُخ ب نما!!!!
رُخ بے نما کہ ائے پری!!!! صبحِ اُمیدِ من تُوئی!!!
آپ بنما کے تمام رُخ دیکھا کیئے، ب سے ہی دیکھا کیے اور فرمایا کیے
جاناں! کا رُخ، ب کی نما کا رُخ ہے!
گرچہ یہ آنکھیں تیرے دیدار کے لائق نہیں
برقع کشا کہ ائے صنم!
آپ اتنا کہا کہ دیوانہ ذدو کوب کرنے لگے!
رُخ بنما ! تھا صحاب ! ب کی نما، ب کا نامہ!
ب کا بُرقع !!! آہ!
ہرسُخنے کہ می کُنی! جان بحلاوت آیدم
جرمنی میں بیٹھے ہیں اور گنجِ شکرکے رخ
گنج شکر بہ زیر لب فرید من توئی
