کاف کی صورت
میم کی مورت
آج فرمائے کہ دُھنوں نے بھی گیتوں کے ساتھ ساتھ ہمارا دیوانگی میں بھرپور ساتھ دیا۔
گیت سنگیت پر ٹھہرے تو فرمائے، گیتوں میں گیتا، ایسے ہی ہے جیسے سیتل چہروں میں کوئی سیتا آئینہ!
جی صاحب!
پل پل کو پہروں سیتا کوئی صاف چہرہ!
جیسے ہندسوں اور لفظوں کو جوڑ کر بنائی گئی کوئی بے صورت کی مورت!
پھر کہے کہ ہمارے بابا جی رحمہ اللہ ایک افسانہ، “موم کی مورت” ، کے عنوان سے لکھے ، اور ہم پڑھے کیا کہ اُس کے مناظر سے پہروں گزرے اورسمجھ گئے کہ موم کی مورت تو البتہ ہے آدمی، مگر صورت کس کاف کی ہوگی؟
موم کی مورت،
میم سی صورت!
اور دُھنوں میں بھی کوئی وقت کا دَھنی،
جی صاحب!
اتنے میں سِن نوّے کی دہائی ہے، اماں نے دس روپے کا نوٹ تھمایا اور کہا آٹھ کی سبزی اور دو کا دھنیا لے آو،
وہ ننھے قدموں سے اٹھتی کوئی موم کی مورت، وہ نطرِ مثال ، امثال دیکھتی ہے، اشجار و اثمار دیکھتی ہے. . .
وہ ، دو، کا، دَھنیہ
وہ ، دھوکا، دنیا۔ ۔ ۔ ۔ اور پہچانتی ہے، دہر کے ہر ہر دَھنی کو، اور دو روپے کے دال دھنیے کو بھی!
اور جانتی ہے کہ اصوات کے آہنگ میں ،
دھن کا دھوکا،
دہن کا دھوکہ…
دِن کے اُجالے میں دھن اور دَہن کا فرق نمایاں ہونے لگا..
ھ سے ہجرت ہونے لگی تھی!
