آج خدواند نے ارواحِ عالم سے کلام فرمایا اور پوچھا: الستُ بربکم؟
اور ارواحِ طیبہ نے یکآواز صدائے ب لاء (بالا، بلا، لا۔۔لا الہ ۔۔اِلا انتَ) بلند کی، جو کچھ یوں محفوظ ہے
قَالُوا بَلٰی شَهِدْنَا۔
وحی کے حروف میں “بلی” کے آخر پر ایک الفِ مقصورہ بھی ہے، یعنی پڑھنے والوں نے بھی سُننے والوں کی طرح جواب میں کسی کسی آہ وہ بلا نہ سُنی ہو گی! آہ و بقا، بلی ہی بلا!
نہ جانے وہ آوازوں کے محصور اور حروف کے مکسور اپنی غنائیت میں کیا شہادت دے رہے ہوں گے، یہ آج سوچتے رہے۔
ایسے میں آدم کو قلم سے لکھنے کی جو قسم کھائی تو آپ دیکھنے لگے، ہر ہر کاتب کی کاف کلائیوں کو، جن پر کہیں روشنائی ہے تو کسی آستیں سے سرسر سیاہی ٹپک رہی ہے!
آپ رنگوں پر کلام فرمانے لگے تو چپکے سے کہے، بیسیوں کی کلائیوں پر ہی نہیں ہاتھوں پر بھی لہو سے سُرخ دھبے تھے، وہ تراشیدہ قلمیں، وہ ہاتھوں کی ریکھائیں، وہ انگلیوں کے جوڑ توڑ—سب یکایک نگاہ میں آتے گئے۔ یہاں وہاں الف، بٰ، ہی لکھا تھا صاحب!
لکھ لکھ کے گھستے چہرے، ظلمتوں کے طوق پہنے چلتی کلائیاں اور اُن پر لگے سات قلموں کے بیس دھبے، دَبے دَبے سے سات سیاہ دھبے!
ازل کی تختی دھونے والا جب دھوبی کے گھاٹ اترا تو کیا دیکھتا ہے کہ ہر ہر حرف کو دال سے دھویا جا رہا ہے۔ قلم تھامنے والوں نے اعداد کے فسوں نے فونٹ تک اتار دیے ہیں۔
یعنی ارواح نے جو بھی کہا، اُس اآواز و احساس کو لسانِ مبین کے خط میں کچھ یُوں محفوظ کیا گیا ہے “بلٰی”، جیسے “بلے” بھی لکھا گیا ہے: “بلٰی” — جیسے کہیں فارسی میں “بلے” کہا گیا ہو۔ اب یہ تو معلوم نہیں کہ شہادت آواز پر تھی یا احساس پر، البتہ جو آوازوں کے طول اور قلم کے جھول سے آشنا ہے، وہ مکسور کو معذور جان ہی لے گا۔ ہم تو بَلا کا مطلب “کربِ بلا” سے ہی لیے بیٹھے۔
ب سے سنتے ہیں کہ ارواح چِلاّئیں
!” رب” ہے تو” تربیت” بھی کرے گا
اور بلا شبہ تربیت کے تمام پہر بلا کے تھے
تر۔۔۔ ربوبیت
اب تر، اب تر
۔۔۔۔