آج بتلائے کہ کتنے ہی ایسے الف ہیں جنہیں لکھا تو جاتا ہے، پڑھا نہیں جاتا اور اِسی طرح بیسیوں الف پڑھے کہے تو جاتے ہیں لکھے نہیں جاتے ، اُن اصوات و خطوط میں جھول غضب کا تھا۔ایسے ہی جیسے الجبرا میں ایکس کی قدر ایک ہی ہوتی ہت اور بے شک ایک کا عدد مقدار میں الف کے ہی برابر ہے۔ اسکول ڈی پی ایس ہے اور وہاں خالد حسین بھٹی صاحب نے ایکس لکھا اور ساتھ میں وائے۔ کہا دونوں کی مقداریں جاننے کے لیے یہ فرض کرنا پڑے گا کہ اُن کی مقداریں ایک ایک ہی ہیں۔ ایکس کے اوپر نیچے ایک ایک لکھتے گئے ..
لہذا یہ بھی یاد رہے کہ اِبتدا تو ب سے ہے لیکن اِنتہا ب سے نہیں..
انتہا نون سے ہی ہوگی، اور نجات؟
ن سے تھی!
