
Aladin Tepe Konya, 2011
**فرمایا جسم کی عاقبت اِسی میں ہے کہ عادتوں میں جُتا رہے، بدن کا بیل جوکھ اٹھائے !
**وہ جوکھ کس کے تھے؟ آپ پوچھا کیے۔ فرمائے جوکھ، جوگ کے ہی ہیں !
جوگ کے ہر ہر روگ میں کیا تھا؟ آپ پوچھے!
سنجوگ تھا صاحب!
رُوپ اَروپ میں سنجوگ سے نبھا کرنے والا جوگی! جانتا ہے کہ “کرتا” نہیں ہے ! فرمایا “کرتا” صرف پَرم آتما ہے! اور شریر تو صرف روگ اٹھاتا ہے ! ایسے میں راوی ریحان شریف میں سید افضال حسین شاہ صاحبؔ کی صحبت میں ہے، فرمائے
؎ **ہتھ کار وَلے، دل یار وَلے ( کام جو بھی کرو دل میں یادِ خدا ہو)**
یاد! آہ صاحب! واصف صاحبؔ یاد آ گئے کہے، کہ **زمین و آسمان کی بُنت ہی یادوں سے ہوئی ہے !**
۔۔ .۔ ۔
میڈم ؔ نے فیضؔ کو گنگنایا ؛
؎ **تیری اِن آنکھوں کے سِوا اِس دنیا میں رکھا کیا ہے**
ہم سمجھ گئے کہ تیری یادوں کے سِوا اِس دنیا میں رکھا کیا ہے؟ یادیں آنکھوں میں تھیں ، آنکھیں ہی یاد تھیں صاحب! کِسی نابینے کی طرح ہمیں آپ کے حسن کی آنکھیں یاد رہ گئیں! فیض تو کہے تھے
؎ صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں
ہم سمجھے ، کہتے ہیں ،” صد شکر کہ اپنی یادوں میں اب ہجر کی کوئی بات نہیں!”
فؔیض کو تو دنیا نے آپ کی یاد سے بیگانہ کر دیا
؎ **دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے**
ہم بے گانہ نہ ہو سکے ! آپ فرمائے ؛
دنیا نے تیری یاد میں دیوانہ کر دیا
تجھ سے نہ دل فریب تھے غم اِس دیار کے
دیار دیار ، بنجارگی میں چلتے گئے اور خود کو تحریکِ منہاج الؔقرآن کے مرکز میں پاتے ہیں ، قبلہ افؔضل نوشاہی صاحب ، اعظؔم چشتی صاحب کا کلام سُنا رہے ہیں ؛
؎ **فرقت کی سختیاں مجھے منظور ہیں مگر
اتنا ضرور ہو کہ تجھے بھی خبر رہے !!**
ہم سمجھ گئے تھے کہ خبر کا جبر قائم رہے گا، اور فرقت کی سختیاں ہوں بھی تو بدن ہی جھیلے گا!
بدن کا بیل !
تن کا سانڈھ!
ہجر کا ہنٹر برابر برس رہا ہے اور یاد میں یاد ہی ہے !